بھٹکل:2/ اگست(ایس او نیوز)بھٹکل کے حالات کو کبھی پرامن ہونے نہیں دیا جاتا ، ابھی امن بحال ہونے کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں تو شرپسند عناصر اور فرقہ پرست سیاست دان کی کرتوتوں سے حالات بگڑنے کی اطلاعات ملتی ہیں۔ یعنی بھٹکل میں امن کو بحال رکھنے کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ ویسے کوئی پولس افسر بھی ایسا نہیں ہوگا جس نے یہاں سرویس نہیں کی ہوگی۔ مرکزی ریزرو پولس دستہ ، ریاستی ریزرو دستہ سے لے کر ریاست کے ہر مقام کی پولس بھٹکل کی قائم مہمان بنتی رہی ہے۔ ایسے حالات میں اعلیٰ افسران کے حکم پر بھٹکل پہنچنے والے پولس عملے کے رہائشی مکانات کو دیکھیں تووہ سڑی ہوئی لکڑی سے بھی بدتر حالت میں ہیں۔
عام طورپر پولس کے متعلق عوام ہمیشہ ایک طرح کراہت محسوس کرتے ہیں، دوری برتنا بہتر سمجھتے ہیں، سفارش وغیرہ کے معاملے میں پولس کے پاس جانے میں ایک طرح خوف محسوس کرتے ہیں۔ کچھ کانسٹبل ایسے بھی ہیں جو ضلع ایس پی سے زائد اختیارات کی طرح رویہ برتتے ہیں، اس میں بھٹکل کے پولس تھانوں میں کب سدھار ہوگا کہنا مشکل ہے۔ لیکن ان سب کو کنارے رکھ کرہماری طرح انسانوں کی زندگی کی نظر سے ان کی زندگی پر نظر ڈالیں تو بہت افسوس ہوتاہے۔ عید، تہوار، احتجاج، جلسہ جلوس، ریلی ، ہنگامہ خیزی ، اشتعال انگیزی جیسے موقعوں پر بھٹکل پولس کے ساتھ حفاظتی اقدامات کے لئے باہر کا قریب 100پولس عملہ یہاں پہنچتاہے۔ ان سب کو رہنے کےلئے پولس پریڈ میدان میں دودو رہائشی کامپلکس دئیے گئے ہیں۔ اپنی ڈیوٹی انجام دینے کےبعد آرام کے لئے پولس انہیں رہائشی مکانات کا رخ کرتےہیں، تعجب کی بات یہ ہے کہ جانوروں کو گوبرڈالنے سمیت آوارہ کتوں کے لئے بھی اسی کامپلکس میں جگہ دی گئی ہے۔ جہاں دیکھووہاں کچرے کا ڈھیرہے، اندر جانے کےلئے ناک بند کرناضروری ہے، اندر کی صورت حال اس سے بھی ابتر ہے۔ ایسی جگہ پر اپنا ایک ٹاول اوڑھ کر مچھروں کی حکومت میں پولس کو نیند کرنا ہے، ٹائلٹ میں قدم رکھ ہی نہیں سکتے ، گندی بو سانس روک لیتی ہے، اس کے بالمقابل اندرونی نالیاں کچھ حد تک بہتر کہی جاسکتی ہیں۔ اِدھر اُدھر بکھرے بجلی کے اشیا ء،پولس نظام کو اندھیرے میں دھکیل دیتی ہے۔ اعلیٰ افسران کے خوف سے پولس عملہ اس درگت کو ظاہر نہیں کرتا۔ پولس سے پوچھا جائے تو کہا جاتاہے کہ جناب ! ہم کچھ نہیں کہیں گے، بولنا مشکل ہے، تم خود نظارہ کرو تو پتہ چلے گا، یہ کہہ کر معاملے کواپنے سینے میں ہی دبا لیتے ہیں۔
رہائشی مکانات کے حالات کو دیکھنےکے بعد سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا ان کی مرمت و درستی کے لئے محکمہ کی طر ف سے رقم نہیں دی جاتی ہے؟ کچھ دنوں پہلے اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ریاستی سطح پر احتجاج کے لئے آگے بڑھنے والے پولس کا معاملہ کی سب کو خبر ہے۔ بھٹکل رہائشی مکانات کی ابتر حالت کودیکھتے ہوئے شہر کے سنجیدہ شہریوں نے اعلیٰ افسران، عوامی نمائندوں سےمطالبہ کیاہے کہ وہ اس طرف توجہ دیں۔ اس سلسلے میں ساحل آن لائن نےجب اے ایس پی ڈاکٹر انوپ شٹی سے دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ رہائشی مکانات بہت پرانے ہیں، اس کی درستگی کے لئے اعلیٰ افسران کو تحریری درخواست روانہ کی گئی ہے، محکمہ کی طر ف سے معاشی طورپر منظوری ملی تو آگے بڑھ سکتے ہیں۔